کھاتے وَقت بھوک لگی ہونا سُنّت ہے۔کھانے میں یہ نِیّت کیجئے کہ اللہ ربّ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی عِبادت پر قُوّت حاصِل کرنے کیلئے کھا رہا ہوں ۔ کھانے سے فَقَط لذّت مقصود نہ ہو۔حضرتِ سیدُنا ابراہیم بن شیبان علیہ رحمۃالمنّان فرماتے ہیں،''میں نے اَسّی برس سے کوئی بھی چیزفَقَط لذّتِ نَفس کی غَرَض سے نہیں کھائی۔''
(اِحیاءُ الْعُلُوم ج۲ص ۵)
کم کھانے کی نِیّت بھی کرے کہ عِبادت پرقُوّت حاصِل کرنے کی نِیّت جبھی سچّی ہوگی کیونکہ پيٹ بھر کے کھانے سے عِبادت ميں اُلٹارُکاوٹ پیدا ہوتی ہے!کم کھانا صحّت کیلئے مفید ہے ایسے شخص کو ڈاکٹر کی ضَرورت کم ہی پیش آتی ہے۔
اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کا فرمانِ صحّت نِشان ہے،''آدَمی اپنے پیٹ سے زیادہ بُرا برتن نہیں بھرتا، انسا ن کیلئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اگر ایسا نہ کرسکے تو تِہائی (۱/۳) کھانے کیلئے تہائی پانی کیلئے اور ایک تِہائی سانس کیلئے ہو۔''
(سنن ابن ماجہ ج۴ص۴۸ حدیث ۳۳۴۹)