| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر ایک باردُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔
شریعت و سنّت کے مطابِق حلال کھانا کارِ ثواب ہے، مُفسّرِشہیر حکیمُ الْاُمّی حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃالمنَّان فرماتے ہیں،'' کھانا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت ہے مومِن کیلئے ۔'' مزید فرماتے ہیں، '' دیکھو نکاح سنّتِ انِبیاء علیھم السلام ہے مگر حضرتِ سیِّدُنا یحیٰ عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلیہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام اورحضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلیہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام نے نکاح نہیں کیا مگر کھانا وہ سنّت ہے کہ از حضرتِ سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلیہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام تا حضرتِ سیِّدُنا محمّدٌّ رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سب ہی نبیوں نے ضَرور کھایا ۔ جو شخص بھوک ہڑتال کر کے بھوک سے جان دیدے وہ حرام موت مریگا۔
(تفسیرِ نعیمی ج۸ ص ۵۱)
سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ حقیقت بُنیاد ہے،'' کھانے والا شکر گزار ویسا ہی ہے جیسا صَبْر کرنے والاروزہ دار۔
(ترمذی ج۴ ص ۲۱۹ حدیث ۲۴۹۴)
لقمہ حلال کی فضیلت
ہم اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی سُنّت کے مطابِق کھانا کھائیں تَو اِس میں ہمارے لئے بَرَکتیں ہی بَرَکتیں ہیں۔حضرت سیِّدُنا اِمام محمد غَزَالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی اِحْیَاءُ الْعُلُوم کی دوسری جِلد میں ایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قَول نَقل کرتے ہیں کہ مسلمان جب حَلال کھانے کا پہلا لُقْمہ کھاتا ہے ، اُس کے پہلے کے گُناہ مُعاف کردئيے جاتے ہیں۔ اور جو شخص طَلَبِ حلال کیلئے رُسوائی