اُس کا نام بمع وَلَدِیت بارگاہِ رسالت صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں پیش کیا جاتا ہے ۔ یہاں یہ نُکتہ بھی اِنتہائی ایمان افروز ہے کہ قبرِ مُنوَّر علیٰ صاحِبِہَا الصلوۃُ وَالسّلام پر حاضِر فِرِشتے کو اس قَدَرزِیادہ قوّتِ سَماعت دی گئی ہے کہ وہ دنیا کے کونے کونے میں ایک ہی وَقْت کے اندر دُرُودشریف پڑھنے والے لاکھوں مسلمانوں کی انتِہائی دھیمی آواز بھی سُن لیاہے اور اسے علمِ غیب بھی عطا کیا گیا ہے کہ وہ دُرُودِ پاک پڑھنے والوں کے نام بلکہ ان کے والِد صاحِبان تک کے نام جان لیا ہے۔جب خادِم دربارِ رسالت صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قوتِ سَماعت اورعلمِ غیب کا یہ حال ہے تو سرکارِ والا تَبار،مکّے مدینے کے تاجدار، محبوبِ پروَرْدْگارعَزَّوَجَلَّ و صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کے اختیارات و علمِ غیب کی کیا شان ہوگی!وہ کیوں نہ اپنے غلاموں کو پہچانیں گے اور کیوں نہ اُن کی فریاد سُن کربِاِذنِ اللہ تعالیٰ اِمداد فرمائیں گے!