اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا اور جو کچھ باطنی فُیوضات عطا فرمانا تھے عطا فرماديئے۔اس پر وہ درویش وجد میں جھومنے لگا اور کہنے لگا کہ میرے مرشِدِ کامل نے مجھے نعمت عطا فرمائی ہے۔حاضرین (جو یہ سب معاملے دیکھ رہے تھے کہ اسے حضرت نظام الحق علیہ الرحمۃ نے نوازا ہے ) اس سے کہنے لگے کہ ! بیوُقوف جو کچھ تجھے ملا وہ تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا عطا کیا ہوا ہے۔ یہاں تک تو بالکل خالی آیا تھا۔ تو وہ قلندر (کیف و سرور کی مستی میں)بولا بے وقوف تم ہو۔
اگر میرے پیرو مرشِد نے مجھ پر نظر نہ کی ہوتی تو حضور علیہ الرحمۃ مجھ پر نظرِ کرم کب فرماتے۔ یہ اسی نظر(یعنی توجہ مرشِد ) کاسبب ہے ۔
اس پر حضرتِ نظامُ الحق علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا۔ یہ سچ کہتا ہے ۔ پھرفرمایا بھائیو! مرید ہونا اس سے سیکھو۔(الملفوظ حصہ اول ص ۱۶)
معلوم ہوا کہ مرید کو ملنے والا فیض بظاہر کسی بھی بُزُرگ یا صاحب ِمزار سے ملے مگر اسے اپنے مرشِد کامل کا فیض ہی تصور کرنا چاہے ۔بلکہ کسی بھی مزار پر حاضری کے وقت بھی تصور ِمرشِد کو ہی مد نظر رکھنا چاہے۔