اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ تین درویش مَحبوبِ الہٰی قدس سرہ کے والد ماجد حضرت ''نظامُ الحق و الدین محبوب الٰہی قدس سرہ العزیز" کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کھانا مانگا۔ خادم کو کھانا لانے کا حکْم فرمایا گیا۔ خادم نے جو کچھ اس وقت موجود تھا۔ ان کے سامنے لاکر رکھا۔ ان میں سے ایک نے وہ کھانا اٹھا کر پھینک دیا اور کہا، اچھا کھانا لاؤ۔ حضرت نے اس ناشائستہ حَرَکت کا کچھ خیال نہ فرمایا بلکہ خادم کو اس سے اچھا کھانا لانے کا حکْم فرمادیا۔خادم پہلے سے اچھا کھانا لے آیا۔انہوں نے دوبارہ پھینک دیا او ر اس سے اچھا مانگا۔حضرت علیہ الرحمۃ نے اور اچھے کھانے کا حکْم دیا۔غرض انہوں نے اس بار بھی پھینک دیا۔ اور اس سے بھی اچھا مانگا ۔
اس پر حضرت علیہ الرحمۃ نے اس درویش کو قریب بلایا او رکان میں ارشاد فرمایا کہ یہ کھانا اس مردار بیل سے تو اچھا تھا جو تم نے راستہ میں کھایا۔ یہ سنتے ہی درویش کا رنگ مُتَغَیَّر ہوا۔(کیونکہ راہ میں تین دن فاقوں کے بعد ایک مرا ہوا بیل جس میں کیڑے پڑ گئے تھے۔تینوں جان بچانے کیلئے اسکا گوشت کھا کر آئے تھے) درویش حضور علیہ الرحمۃ کے قدموں پر گر پڑا۔ حضور علیہ الرحمۃ نے اس کا سر