| آدابِ مرشدِ کامل |
یاد کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے مغفِرت طلب کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تیرے پیرو مرشِد کون ہيں اور ان کا نام کیا ہے ؟مجرم نے کہا میرے پیرو مرشِد حضرت امیر کلال قدس سرہ ہیں۔آپ نے فرمایا اس وقت کہاں تشریف رکھتے ہیں۔مجرم نے کہا اس وقت بُخارا کے عَلاقہ قریہ و خار میں تشریف فرما ہیں۔ یہ سن کر آپ نے تلوار زمین پر پھینک دی اور فوراً بخارا کی طرف روانہ ہوگئے اور فرمانے لگے کہ وہ پیر جو مرید کو تلوار کے نیچے سے بچالے اگر کوئی اس کی خدمت بجالائے تو تعجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ سے بچالے۔ حضرت خواجہ علیہ الرحمۃ کے امیرِ کَلال قدس سرہ کے پاس حاضر ہونے کا سبب یہی واقعہ بنا۔(دلیل العارِفین ۴۰)
صَلُّو اعَلَی الْحَبِيب صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
(6)سعادت مند مرید
سَیِّدی و مرشِدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب حضور سَیِّدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مریدوں میں سے تھے۔ انہوں نے (سوتے جاگتے) میں دیکھا کہ ایک ٹیلہ پر یاقوت کی کرسی بچھی ہے۔اس پر حضرت سَیِّدنا جُنید بَغْدادی رضی اللہ عنہ تشریف فرما ہیں اور نیچے ایک مخلوق جمع ہے ۔ ہر ایک اپنی چٹھی دیتا ہے اور حضرت علیہ الرحمۃ اس کو بارگاہِ ربّ العزت عَزَّوَجَلَّ میں پیش کرتے ہیں ۔یہ چپکے کھڑے رہے۔
آنکھیں بھی اٹھ چکی ہیں زوروں پہ یا وہ گوئی
دم توڑتے مریضِ عصیاں نے ہے پکارا
اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو