| آدابِ مرشدِ کامل |
مرشِد کی چوکھٹ قطبِ عالم حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھو چھوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں میری مقبولیت کا دَرَجہ ومَقام اس دَرَجہ بڑھ جائے کہ میرا سَر عرشِ معلی تک پہنچے۔ تب بھی میر ا سرَمیرے پیر و مرشِد کے آستانے (یعنی چوکھٹ) پر ہی رہے گا۔ (سیرت فخر العارِفین صفحہ نمبر ۱۸۶)
صَلُّو اعَلَی الْحَبِيب صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
(5)تلوار کا وار بے اثر
حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ ایک دن قضانِ سلطان کے دربار میں جلادی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ دربار میں ایک مجرم پیش ہوا تو سلطان نے اس کے قتل کا حکْم صادِر فرمایا۔حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اسے قتل گاہ میں لے گئے اور اس کی آنکھیں باندھ دیں۔تلوار مِیان سے نکالی اور سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر دُرُود پاک پڑھا اور تلوار اس کی گردن پر ماری مگر تلوار نے کچھ بھی اثر نہ کیا۔دوسری بار اسی طرح کیا مگر تلوار نے پھر بھی کچھ اثر نہ کیا۔ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا کہ تلوار کھینچتے وقت مجرم ہونٹ ہلاتا تھا اور منہ میں کچھ پڑھتا تھا۔ یادِ مرشِدآ پ نے اس سے پوچھا کہ خدا عَزَّوَجَلَّ کی عزّت کی قَسَم جو معبودِ برحق ہے تو سچ سچ بتا کیا کہتا تھا۔مجرم نے جواب دیا کہ میں اپنے مرشِد کامل حضرت وسیّد کو
یقینا ہر عَمَل میرا تری نظروں سے قائم ہے مجھے شیطان کے مکروں سے پَرَے مرشِد ہٹانا تم اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو