Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
92 - 269
محبوبوں (رِضْوانُ اللہِ تعالیٰ علیہم اَجمَعین) کا ہمیں دنیا وآخِرت و قَبْر و حَشْر میں اپنے محبوبوں عَلَیْھِمُ الرِّضْوَن کے بَرَکاتِ بے پایاں سے بَہرہ مند فرما۔(اَحْسَنُ الْوِعَاء لِآدَابِ الدُّعَاء ص ۶۰ تا ۶۱)

    الْملفُوظ حصّہ سوم ص ۳۰۷ پر اعلٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزید یہ ارشاد بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرتِ سُلطانُ الاولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ بیّن کرامت دیکھ کر اِستعانت چاہی تو بجائے حضرتِ محبوبِ لٰہی کے نامِ مبارک کے یا غوث (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہی زَبان سے نکلا۔ وَہیں میں نے اکثیر اعظم قصیدہ بھی تصنیف کیا ۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو اعَلَی الْحَبِيب     صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ حِکایت '' بائیس خواجہ کی چَوکھٹ دِہلی شریف '' کی ہے۔ اِس میں تاجدارِ دِہلی حضرت سیِّدُنا خواجہ محبوبِ الٰہی نظامُ الدّین اولیاء رَحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نُمایاں کرامت ہے۔ جبکہ میرے آقا اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بھی یہ کرامت ہی ہے کہ قبرِانور والے کمرہ میں قدم رکھتے تھے تو انہیں ڈھول باجوں کی آوازیں نہ سنائی دیتی تھیں۔ اِس حِکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بِالفرض اگر مزاراتِ اولیاء پر جُہَلاء غیر شَرْعی حَرَکات کر رہے ہوں اور ان کو روکنے کی قُدرت نہ ہو تب بھی اپنے آپ کو اَہلُ اللہ رَحِمَھُمُ اللہُ تعالیٰ کے درباروں کی حاضِری سے محروم نہ کرے۔ ہاں مگر یہ واجِب ہے کہ اُن خُرافات کو دل سے بُراجانے اور اِن میں شامِل ہونے سے بچے۔ بلکہ اُنکی طرف دیکھنے سے بھی خود کو بچائے۔
Flag Counter