الْاولِیا ء رضی ا للہ تعالیٰ عنہ ہوا۔حُجرہ مُقدَّسہ کے چار طرف مجالِسِ باطِلہ لَہْو و سَرَور گرْم تھی۔ شور و غَوغا سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ دونوں حَضَراتِ عالِیّت اپنے قُلوب ِ مُطْمَئِنَّہ کے ساتھ حاضِرِ مُو َا جَہَئہ اَ قَدس(مُ۔وا۔ہَ۔ جَ۔ئِ۔اَقدس) ہو کر مشغول ہوئے۔اِس فقیرِ بے تَو قیر نے ہُجومِ شَوروشَر سے خاطِر (یعنی دل) میں پریشانی پائی۔ دروازہ مُطَہَّرہ پر کھڑے ہو کر حضرتِ سُلطانُ الْا َ ولِیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی کہ اے مولیٰ! غلام جس کیلئے حاضِر ہوا، یہ آوازیں اس میں خَلَل انداز ہیں۔ (لفْظ یِہی تھے یا ان کے قَریب، بَہَرحال مضمونِ مَعْروضہ یِہی تھا) یہ عرض کرکے بِسْمِ اللہ کہہ کر دَہنا پاؤں دروازہ حُجرِہ طاہِرہ میں رکھا بِعَونِ رَبِّ قدیر عَزَّوَجَلَّ وہ سب آوازیں دَفْعَۃْ گُم تھیں۔ مجھے گُمان ہوا کہ یہ لوگ خاموش ہورہے، پیچھے پھر کر دیکھا تو وُہی بازار گَرْم تھا۔ قدم کہ رکھا تھا باہَر ہٹایا پھر آوازوں کا وُہی جوش پایا۔ پھر بِسْمِ اللہ کہہ کر دَہنا پاؤں اندر رکھا۔ بِحَمْدِ اللہِ تَعَالیٰ پھر وَیسے ہی کان ٹھنڈے تھے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ مولیٰ عَزَّوَجَل کاکرم اور حضرتِ سُلطانُ الْا َولِیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامت اور اس بندہ ناچیز پر رَحْمت و مَعُونَت ہے۔ شکر بجالا یا اور حاضِر مُواجَہَہ عالِیہ ہو کر مشغول رہا۔ کوئی آواز نہ سنائی دی جب باہَر آیا پھر وُہی حال تھا کہ خانقاہِ اقدس کے باہَر قِیام گاہ تک پہنچنا دشوار ہوا۔ فقیر نے یہ اپنے اوپر گُزری ہوئی گزارِش کی، کہ اوّل تو وہ نعمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ تھی اور ربَّ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے،