اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ سے عرْض کی گئی کہ حضرت سَیِّدی اَحمدزروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ جب کسی کو کوئی تکلیف پہنچے تو یازَرّوق ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہہ کر نِدا کرے میں فوراً اس کی مدد کروں گا۔تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا ،میں نے کبھی اس قسم کی مدد طلب نہ کی ۔جب کبھی میں نے اِستِعانَت (یعنی مدد طلب کی) یاغوث رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کہا ۔ ''یْک دَر گیر محکْم گیر'' (ایک ہی دَر پکڑ و مگر مضبوط پکڑو)
(الملفوظ حصہ سوم ص ۳۰۷)
شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنت ،بانیِ دعوتِ اسلامی ،حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیفِ لطیف فیضانِ سنّت کے منفرِد باب ''فیضانِ بسم اللہ'' کے (ص ۸ تا ۱۱)پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی کرامت بیان فرمائی ہے کہ سرکارِ اعلٰیحضرت علیہ الرحمۃ جب 21برس کے نوجوان تھے اس وقت کا وا قعہ خود اُن ہی کی زَ بانی مُلاحَظہ ہو، چناچِہ فرما تے ہیں،سَتْرَھویں شریف ماہِ فاخِر ربیعُ الآخِر ۱۲۹۳میں کہ فقیر کو اکیسواں سال تھا ۔ اعلٰیحضرت مُصنِّف عَلّام سیِّدُناَلْوالِد قُدِّسَ سِرُّہُ الْماجِد و حضر ت مُحِبُّ الرسول جناب مولٰینا مولوی محمد عبدُالقادِر صاحِب بدایونی دامت بَرَکا تُہُمُ العا لیہ کے ہمراہِ رِکاب حاضِرِ بارگاہِ بیکس پناہ ِ حضور پُرنُور مَحبوبِ الٰہی نظامُ الحقِّ وَالدّین سلطانُ