Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
89 - 269
 (2) مرید ہو تو ایسا
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں،بَیْعَت(یعنی مرید ہونا) اسے کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰ منیری علیہ الرحمۃ کے ایک مرید دریا میں ڈوب رہے تھے۔ حضرتِ خِضَر علیہ السلام ظاہر ہوئے اور فرمایا،اپنا ہاتھ مجھے دے کہ تجھے نکال لوں۔اس مرید نے عرْض کی یہ ہاتھ حضرت یحیٰی منیری علیہ الرحمۃ کے ہاتھ میں دے چکا ہوں اور اب دوسرے کو نہ دوں گا،حضرت خضر علیہ السلام غائب ہوگئے اور حضرت یحییٰ منیری علیہ الرحمۃ ظاہر ہوئے اور ان کو نکال لیا۔(انواررضا ، امام احمد رضا اور تعلیمات تصوف ، ص ۲۳۸)

    امام شعرانی میزان الشریعۃ الکبریٰ میں فرماتے ہیں کہ جس طرح مذاہب اَرْبَعہ میں سے کسی ایک کی تقلید لازم ہے ۔اسی طرح مرید کیلئے بھی ایک ہی پیر سے وابستہ رہنا لازمی ہے ، مدخل شریف میں ہے کہ مرید کو چاہے کہ اپنے زمانہ کے تمام مشائخ کے ساتھ نیک گمان رکھے، او ر(صرف)اپنے مرشِد کامل ہی کے دامن سے وابستہ رہے اور تمام کاموں میں اسی پر اعتماد کرے او ر(اِدھر اُدھر ٹھوکریں کھانے)اوروقت ضائع کرنے سے بچے۔( فتاوٰی ، رضو یۃ جدید ، ج ۲۱ ، ص ۴۷۸)

     پھر فرمایا ،اِرادَت (یعنی اعتقاد)اَہم ترین شرط ہے بَیْعَت میں ۔ بس مرشِد کی ذرا سی توجہُّ دَرکار ہوتی ہے۔( ملفو ظات اعلی حضرت ، حصہ سوم ، ص ۳۴۳)
تیرے ہاتھ میں ہاتھ میں نے دیا ہے

تیرے ہاتھ ہے لاج یا غوثِ اعظم
Flag Counter