اس نے پوچھا اے رازی! تم نے ساری عمرْمناظروں میں گزاری ذرا یہ تو بتاؤ تمہارے پاس خدا کے ایک ہونے پر کیا دلیل ہے ۔آپ نے ایک دلیل دی۔ وہ خبیث چونکہ مُعَلِّمُ المَلَکوت رہ چکا تھا۔ اس نے وہ دلیل اپنے علمِ باطل کے زور سے( اپنے زُعْمِ فاسد میں) توڑدی۔ آ پ نے
دوسری دلیل دی، اس نے وہ بھی( اپنے زُعْمِ فاسد میں) توڑ دی ، یہاں تک کہ آپ نے ۳۶۰ دلیلیں قائم کیں اور اس نے وہ سب( اپنے زُعْم ِفاسد میں) توڑدیں، آپ سخت پریشان و مایو س ہوئے ۔شیطان نے کہا،اب بول خدا کو کیسے مانتا ہے ؟ آپ کے پیر حضرت نجم الدین کبریٰ رضی اللہ عنہ وہاں سے میلوں دور کسی مقام پر وُضو فرماتے ہوئے چشمِ باطن سے یہ مناظرہ ملاحَظہ فرمارہے تھے ۔آپ نے وہاں سے آواز دی، رازی! کہہ کیوں نہیں دیتے کہ میں نے خدا کو بِغیر دلیل کے ایک مانا۔ امام رازی نے یہ کہا اور کلمہء طیبہ پڑھ کر (حالتِ ایمان) میں جان! جانِ آفرین کے سِپُرد کر دی۔ (الملفوظ حصہ چہارم صفحہ ۳۸۹)
اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو