عُیوب'' کے اِزالے کیلئے صوفیاء کے ہمراہ طریقت میں داخل ہونا ضَروری ہے۔
(حقائق عن التصوف ، الباب الثانی ، الصحبۃ ، ص ۶۰)
(۲)سَیِّدُناامام شَعرا نی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ بِغیر مرشِد کے میرے مجاہدات کی صورت یہ تھی۔کہ میں صوفیاء کی کتابوں کا مطالَعَہ کرتا تھا۔ کچھ عرصے بعد ایک کو چھوڑ کر دوسرے طریقے کو اختیار کرتا ۔ ایک عرصے میرا یہی حال رہا۔ کہ بندے کا بِغیر مرشِد کامل کے یہی حال ہوتا ہے ۔ جبکہ مرشِد کامل کا یہ فائدہ ہے ،کہ وہ مرید کیلئے راستے کو مختصر کردیتا ہے اور جو بِغیر مرشِد کے راہ طریقت اختیار کرتا ہے، وہ پریشان رہتا ہے اور عمر بھر مقصد نہیں پاتا۔ (حقائق عن التصوف ، البا ب الثانی ، الصحبۃ ، ص ۴۹)
معلوم ہوا،اگر طریقت میں کامیابی بِغیر مرشِد کامل کے محض فَہم و فَراست سے ہوتی ۔ تو امام غزالی علیہ الرحمۃ او رشَیخ عِزُ الدین بن عبدالسلام (رحمہم اللہ) جیسے لوگ''مرشِد کامل'' کے محتاج نہ ہوتے۔
امام اَحمد بن حنبل علیہ الرحمۃ نے ابو حمزہ بغداد ی علیہ الرحمۃ کی اورامام اَحمد بن سریج علیہ الرحمۃ نے ابو القا سم جُنید بغداد ی علیہ الرحمۃ کی صحبت اختیار کی۔
سَیِّدنا امام غزالی علیہ رحمۃ الوالی نے بھی''مرشِد کامل'' کو تلاش کیا حالانکہ وہ حجۃ الاسلام تھے۔ عزالد ین بن عبدالسلام(رحمہم اللہ) نے بھی مرشِد کامل کی صحبت اختیار کی۔ حالانکہ وہ ''سلطانُ العُلَماء''کے لقب سے مشہورتھے۔
شَیخ عِزُالدین علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ''شَیخ ابوالحسن شاذلی'' علیہ الرحمۃ کی صحبت اختیار کرنے سے قبل مجھے اسلام کی ''کامل معرفت''حاصل نہ تھی۔