| آدابِ مرشدِ کامل |
'' عارِفِ کامل کی صحبت اختیار کرو۔ وہ تمہیں ہلاکت کے راستے سے بچائے گا۔ اس کا دیکھنا تمہیں اللہ کی یاد دلائے گا۔ اور وہ بڑے نفیس طریقے سے نفْس کا محاسَبہ کراتے ہوئے اور ''خَطَراتِ قلْب'' سے مَحفوظ فرماتے ہوئے تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملا دیگا اس کی صحبت کے سبب تمہارے فرائض ونوافل مَحفوظ ہوجائیں گے۔''تصفیہ قلْب'' کے ساتھ''ذکر کثیر'' کی دولت مُیَسِّر آئے گی اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے متعلقہ سارے اُمور میں تمہاری مدد فرمائیگا۔
(حقائق عن التصوف ، الباب الثانی ، الصحبۃ ، ص ۵۷)
(۲)علامہ مُحَدِّث طیبی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ کوئی عالم علم میں کتنا ہی مُعْتَبَر (یعنی قابلِ بھروسہ) یا یکتائے زمانہ ہو۔اس کیلئے صرف علْم پر قناعَت کرنا اور اسے کافی سمجھنا مناسب نہیں ۔ بلکہ ا س پر واجب ہے کہ وہ مرشِد کامل کی مصاحَبَتْ اختیار کرے ،تاکہ وہ اس کی راہ ِحق کی طرف راہنمائی کرے۔
(حقا ئق عن التصوف ، الباب الثانی ، الصحبۃ ، ص ۵۸)
صحبت کی اَہمیت''پر صوفیاء و عارِفین کرام (رحمہم اللہ)کے اقوال''
صوفیائے کرام رحمہم اللہ خالص بندگی والی زندگی کے حَریص ہوتے ہیں۔ مرشِد کامل کی نصیحتوں کو ماننا اور ا ن کی تَوجیحات کو قُبول کرنا۔ان کی زندگی کے لوازمات ہیں۔
(۱)حُجَّۃُ الاسلام امام ابو حامدمحمد غزالی علیہ الرحمۃ نے فرمایا انبیا ء علیہم السلام کے علاوہ کوئی بھی ظاہری و باطنی عُیوب و امراض سے خالی نہیں۔لہٰذا ان ''امراض و