Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
81 - 269
    معلوم ہوا، تَزکیہ اور چیز ہے اور تعلیمِ قرآن اور چیز ہے۔اس لئے کسی مرشِدِکامل کی صحبت ضَروری ہے۔
صحبت کی اَہمیت پر قرآنِ پاک کے ارشادات
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ وَجَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۳۵﴾
 (ترجمہ کنزالایمان)اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈھو اور اس کی راہ میں جِہاد کرواس اُمید پر کہ فلاح پاؤ۔(پ۶،سورہ مائدہ آیت ۳۵)

    اس آیتِ مقدَّسہ میں وسیلہ سے مراد ایمان نہیں ہوسکتا۔کیونکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ وسیلہ عملِ صالح بھی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ تقویٰ میں اعمالِ صالح بھی شامل ہیں۔ پس یہاں وسیلے سے مراد مرشِدِ کامل کی بَیْعَت ہے۔ مولانا روم علیہ الرحمۃ نے بھی وسیلہ سے یہاں بَیْعَتِ مرشِد ہی مراد لی ہے۔    (تَصَوُّف و طریقت صفحہ نمبر ۹۷)

سورۃ توبہ میں ارشاد ہوا۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾
 (ترجمہ کنزالایمان)اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو۔ (سورۃ توبۃ آیت ۱۱۹)
ازخود علاج:
آپ علیہ الرحمۃ مزید فرماتے ہیں جیسا کہ عِلْمِ طِبْ میں یہ بات طے ہے۔ کہ طِبْ کی کتابیں پڑھنے کے باوُجود ازخودکوئی اپنا علاج نہیں کرسکتا۔بلکہ اس کے واسطے کوئی طبیب چاہے۔جو اس کے مَرَض کی تشخیص کرے۔اسی طرح امراضِ قلبیہ اور نفسانی بیماریوں کا علاج بھی از خود نہیں کیا جاسکتا ہے ان کیلئے بھی ایک مزّکی طبیب کی حاجت ہے۔ (حقائق عن التصو ف ، الباب الثانی ، الصحبۃ ،ص ۴۸)
Flag Counter