Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
80 - 269
ایمان کی حفا ظت
    اس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں۔جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث کو از خود سمجھنا مشکل نہیں۔ہر کس و ناکس اپنے طور پر مطالَعَہ کرے تو حق سامنے آجائیگا، تو وہ لوگ جان لیں کہ ایسی سوچ رکھنے والا،بلکہ ایسی سوچ دینے والوں کی صحبت میں بیٹھنے والے کابھی ایمان ہر وقت خطرے میں ہے۔لہٰذافوراً ایسے لوگوں سے ایمان کی حفاظت کے پیشِ نظر دوری اختیار کرکے سنتوں کے عامل صحیح العقیدہ عاشقانِ رسول کی صحبت اور ان کے ہمراہ سنّتوں کی تربیت کیلئے مَدَنی قافِلوں میں سفر اور علماءِ حق کی مستند کتابوں سے راہنمائی لینی چاہے۔

    حضرت سَیِّدنا عبدالقادر عیسیٰ شاذلی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ، نورِمُجَسَّم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اصحابِ کرام علیہم الرضوان بھی مَحض قرآن پڑھنے سے اپنے نُفوس کا علاج نہیں کرسکتے تھے۔ وہ بھی رسولُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے شِفاء خانے سے وابستہ تھے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ان کا ''تَزْکِیہ و تربیت'' (یعنی نفس و قلب کوپاک و صاف فرمانے کے ساتھ)فرماتے تھے۔     (حقائق عن التصوف ، الباب الثانی الصحبۃ ، ص ۴۷)

    اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ وَصْف بیان کرتے ہوئے فرمایا :
ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیۡہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ ٭
 (ترجمہ کنز الایمان)وہی ہے ،جس نے اَن پڑھوں میں اُنہی میں سے ایک رسول بھیجاکہ ُان پر اُس کی آیتیں پڑھتے ہیں۔اور انہیں پاک کرتے ہیں ا ور انہیں کتا ب و حکْمت کا علْم عطا فرماتے ہیں۔( سورہ جمعہ، آیت ۲)
Flag Counter