Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
79 - 269
کی تَطْبِیق نہ کریں۔تو عام لوگ ہر گز ہرگز کتابوں سے اَحکام نکال لینے پر قادر نہیں ۔ ہزاروں غَلَطیاں کریں گے اور کچھ کا کچھ سمجھیں گے۔
ضَرورتِ مرشِد
    سَیِّدی و مرشِدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ راہ طریقت کے گامزن کی راہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب اَحکامِ شریعَت میں یہ حال ہے ۔تو پھر واضح ہے کہ مرشِد کامل کے بِغیر''اَسرارِ معرِفت'' قرآن و حدیث سے خود نکال لینا کس قدر مَحال ہے ۔ یہ راہ سخت باریک اور مرشِد کی روشنی کے بِغیرسخت تاریک ہے ۔بڑے بڑوں کو شیطان لعین نے اس راہ میں ایسا مارا کے ''تَحْتُ الثَری'' تک پہنچا دیا۔ تیری کیا حقیقت کہ''بِغیر رَہبرِ کامل'' ا س میں چلے اور سلامت نکل جانے کا دعویٰ کرے۔

''آئمہ کرام '' فرماتے ہیں۔آدمی کتنا ہی بڑا عالم، عامل، زاہد اور کامل ہو اس پر واجب ہے کہ ولیِ کامل کو اپنا مرشِد بنائے کہ اس کے بِغیر اس کوہرگز چارہ نہیں۔             (تَصَوُّف و طریقت صفحہ نمبر ۱۰۸)
مَدَنی اصول
اس لئے یہ اُصول مقرر ہے کہ عوام''عُلَماءِ حق''کا دامن تھا میں۔ اور وہ '' علماء ماہرین'' کی تصانیف کا ،اور وہ(یعنی علماء ماہرین) ''مشائخِ فتویٰ '' کا او روہ(یعنی علماءِ ماہرین)''آئمہ ہدیٰ''کا اور وہ(یعنی آئمہ ہُدیٰ) ''قرآن و حدیث'' کا جس نے اس سلسلے کو کہیں سے توڑ دیا وہ ہدایت سے اندھا ہوگیا۔اور جس نے ہادی کا دامن چھوڑا وہ عنقریب کسی گہرے کنویں میں گرا چاہتا ہے۔
Flag Counter