اصلاحِ نفس ، تہذیبِ اخلاق، عقیدے کی پختگی اور ایمان کے راسخ کرنے کیلئے بڑا موثر عملی علاج ہے۔ یہ ''کمالات'' مطالَعَہ کرنے اور ضخیم کتابوں کے پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتے۔ یہ توو ہ عَمَلی ا ور وَ جدانی خصلتیں ہیں، جو پَیرَوی کرنے، صحبت پانے ،دل سے لینے او ر روح سے متاثر ہونے سے حاصل ہوتی ہیں۔ (حقائق عن التصوف ،الباب الثانی، الصحبۃ س ۴۷)
معلوم ہوا کہ وارثِ محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اور مرشِدِ کامل کی صحبت ہی وہ عملی طریقہ ہے ۔ جس سے نفْس کا ''تزْکیہ'' ہوسکے۔یہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ شخص غلطی پر ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ میں بذاتِ خود اپنے دل کے امراض کا علاج کرسکتاہوں۔ اور ( ازخود) قرآن و حدیث کے مطالعے سے اپنی نفسانی خرابیوں سے چھٹکارا پاسکتا ہوں۔