Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
78 - 269
اصلاحِ نفس ، تہذیبِ اخلاق، عقیدے کی پختگی اور ایمان کے راسخ کرنے کیلئے بڑا موثر عملی علاج ہے۔ یہ ''کمالات'' مطالَعَہ کرنے اور ضخیم کتابوں کے پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتے۔ یہ توو ہ عَمَلی ا ور وَ جدانی خصلتیں ہیں، جو پَیرَوی کرنے، صحبت پانے ،دل سے لینے او ر روح سے متاثر ہونے سے حاصل ہوتی ہیں۔     (حقائق عن التصوف ،الباب الثانی، الصحبۃ س ۴۷)

     معلوم ہوا کہ وارثِ محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اور مرشِدِ کامل کی صحبت ہی وہ عملی طریقہ ہے ۔ جس سے نفْس کا ''تزْکیہ'' ہوسکے۔یہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ شخص غلطی پر ہے۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ میں بذاتِ خود اپنے دل کے امراض کا علاج کرسکتاہوں۔ اور ( ازخود) قرآن و حدیث کے مطالعے سے اپنی نفسانی خرابیوں سے چھٹکارا پاسکتا ہوں۔
ایمان کا تحفظ
    اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ
نَقَاءُ السَّلاَ فَہْ فِی اَحْکَامِ البَیْعَۃِ وَالْخِلاَ فَہ
'' میں ایسے لوگوں کو تنبیہہ فرماتے ہوئے بڑے پیارے اندازسے راہنمائی فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں شریعَت، طریقت او رحقیقت سب کچھ ہے۔ اور ان میں سب سے زیادہ ظاہر و آسان شریعَت کے مسائل ہیں ۔اور ان آسان مسائل کا یہ حال ہے کہ اگر''آئمہ مُجْتَہِدین'' ان کی تشریح نہ فرماتے ، تو علماء کچھ نہ سمجھتے اور علماء کرام، آئمہ مُجْتَہِدین کے اقوال کی تشریح نہ کرتے۔ تو عوام ''آئمہ'' کے ارشادات سمجھنے سے بھی عاجز رہتے ۔اور اب بھی اگر''اَہلِ عِلْم'' عوام کے سامنے''مطالبِ کُتب'' کی تفصیل اور صورتِ خاصہ پر حکْم
Flag Counter