Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
77 - 269
اعلیٰ درجہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صحبت و مجلس کے سبب حاصل ہوا،ا ور تابعین علیہم الرضوان نے اس عظیم شرف کو صحابہ کرام علیہم الرضوان کی صحبت سے پایا۔
جا نشینِ رسول
    عُلَماکرام رَحِمَہُمُ اللہ فرماتے ہیں ،بے شک رسو لُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رِسالت عام ہے اور قِیامت تک کیلئے ہے ۔ اور ہر دور میں علماء و عارِفین رحمہم اللہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وارث ہوتے ہیں ۔ان عارِفین نے اپنے نبی علیہ السلام سے علْم ، اخلاق، ایمان ، اور تقویٰ ورثہ میں پایا۔ یہ نصیحت اور نیکی کی دعوت دینے میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جانشین ہیں ۔یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نور سے اِکتِسا بِ فَیض کرتے ہیں ،اور جو بھی ان کی ہم نشینی اختیار کرتا ہے ان کا وہ حال اس کی طرف سِرایَت کرجاتا ہے جو انہوں نے رسولُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے حاصل کیا۔
صحبت کی ضَرورت
     آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا''میری امّت میں ایک گروہ قِیامت تک حق پر رہے گا، ان کے مخالفین انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے۔(صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، الخ،رقم ۱۹۲۰ ، ص۱۰۶۱) 

    ان کا اثر زمانے کے گزرنے سے ختْم نہیں ہوتااوران سوارثینِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صحبت مُجَرِّبِ تَریا ق (یعنی تجربہ شدہ زہر کا علاج )ہے ۔اور ان سے دوری زہرِ قاتل ہے ۔ یہ وہ قوم ہے کہ ان کا ہم نشین بدبخت نہیں رہ سکتا ، ان کا تَقَرُّب اور ان کی صحبت
Flag Counter