الامکان ایسی جگہ نہ کھڑا ہو کہ اس کا سایہ مرشِد کے سایہ پر یا اسکے کپڑے پر پڑے۔(۸) اس کے مصلے(یعنی جائے نماز)پرپاؤں نہ رکھے۔(۹)مرشِدکے برتنوں کو استعمال میں نہ لاوے۔ (۱۰) اس کے سامنے نہ کھانا کھائے نہ پیئے اور نہ وضو کرے ،ہاں اجازت کے بعد مضائقہ نہیں۔(۱۱) اسکے رو برو(یعنی سامنے) کسی (اور)سے بات نہ کرے بلکہ کسی کی طرف متوجہ بھی نہ ہو۔(۱۲) جس جگہ مرشِد بیٹھتا ہو اس طرف پیر نہ پھیلائے ،اگرچہ سامنے نہ ہو۔(۱۳) اور اس طرف تھوکے بھی نہیں۔(۱۴) جو کچھ مرشِد کہے اور کرے اس پر اعتراض نہ کرے کیونکہ جو کچھ وہ(یعنی مرشد) کرتا ہے اور کہتا ہے (اسکی)اگر کوئی بات سمجھ نہ آوے تو حضرت موسیٰ وخضر علیہما السلام کا قصہ یاد کرے۔(۱۵) اپنے مرشِد سے کرامت کی خواہش نہ کرے۔(۱۶)اگر کوئی شبہ دل میں گزرے تو فوراً عرْض کرے اور اگر وہ شبہ حل نہ ہو تو اپنے فَہم (یعنی عقْل کی کمی) کا نقصان سمجھے اور اگر مرشِد اس کا کچھ جواب نہ دے تو جان لے کہ میں اس جواب کے لائق نہ تھا۔(۱۷) خواب میں جو کچھ دیکھے وہ مرشِد سے عرْض کرے اور اگر اس کی تعبیر ذہن میں آوے تو اسے بھی عرْض کرے۔(۱۸) بے ضَرورت اور بے اِذْن مرشِد سے علیحدہ نہ ہو۔(۱۹) مرشِد کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے اور بآواز اس سے بات نہ کرے اور بقد رضَرورت مختصر کلام کرے اور نہایت توجہ سے جواب کا منتظر رہے ۔(۲۰) اور مرشِد کے کلام کو دوسرے سے اس قدر بیان کرے جس قدر لوگ سمجھ سکیں اور جس بات کو یہ لوگ نہ سمجھیں گے توا سے بیان نہ کرے۔(۲۱) اور مرشِد کے کلام کو رَد نہ کرے