اگرچہ حق مرید ہی کی جانب ہو بلکہ اعتقاد کرے کہ شَیخ کی خطا میرے صواب (یعنی دُرستی)سے بہتر ہے ۔ (۲۲) اور کسی دوسرے کا سلام و پیام شَیخ سے نہ کہے(یہ عام مریدین کیلئے ہے جس کوبارگاہِ مرشِد میں ابھی منصب عرْضِ معروض و دیگران حاصل نہ ہو۔ ایسوں سے اگر کوئی سلام کیلئے عرْض کرے توعُذر کرے کہ حضور میں مرشِدِ کریم کی بارگاہ میں دوسرے کی بات عرْض کرنے کے ابھی قابل نہیں)۔ (۲۳) جو کچھ اس کا حال ہو، برا یا بھلا ،اسے مرشِد سے عرْض کرے کیونکہ مرشِد طبیبِ قلبی ہے ،اطلاع ہونے پر اسکی اصلاح کریگا ،(۲۴) مرشِد کے کشْف پر اعتماد کرکے سُکوت نہ کرے۔(۲۵) اسکے پاس بیٹھ کر وظیفہ میں مشغول نہ ہو ،ا گر کچھ پڑھنا ہو تو اسکی نظر سے پوشیدہ بیٹھ کر پڑھے۔(۲۶) جو کچھ فیض باطنی اسے پہنچے اسے مرشِد کا طفیل سمجھے۔ اگرچہ خوا ب میں یا مراقبہ میں دیکھے کہ دوسرے بُزُرگ سے پہنچا۔ تب بھی یہ جانے کہ مرشِد کا کوئی وظیفہ اس بُزُرگ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔