جن خوش نصیب اسلامی بھائیوں اور بہنوں کو وقتِ موت کلِمَہ طَیّبہ پڑھنے کی سعادت ملی اور قبْریں کُھلنے پر جسم و کفن سلامت ہونے کے ساتھ خوشبو کا بسیرا تھا ان تمام میں حیرت انگیز یکسانیت یہ دیکھی گئی کہ یہ تمام اپنے پیرو مرشد امیرِ اَہلسنّت دَاْمَتْ بَرَکا تُہُمُ العَالِيہ کی مَدَنی تربیت کی بَرَکت سے (۱) پنج وقتہ نمازی اور دیگر فرائض و واجبات پر عمل کا ذہن رکھنے اور سنتوں کے مطابق اپنے شب و روز گزارنے والے تھے،(۲) نیکیاں کرکے نیکی کی دعوت پھیلانے اور برائیوں سے بچ کر برائیوں سے بچانے کی کوشش کرنے والے،(۳) دُرُود و سلام محبت سے پڑھنے والے، (۴)فاتحہ نیاز بالخُصوص گیارہویں شریف اور بارہویں شریف کا اہتمام کرنے والے، (۵)عیدِ میلادُ النبی کی خوشی میں جشنِ ولادت کی دُھومیں مچانے والے،(۶) چَراغاں اور اجتماعِ ذکْرونعت کرنے والے تھے ۔
جبکہ فوت ہوجانے والے خوش نصیب اسلامی بھائی (۷) بارہ ربیعُ النور شریف کے دن اہتمام کے ساتھ مَدَنی جُلوس میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ (۸)مزاراتِ اولیاء پر باادب حاضری بھی دیا کرتے تھے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اِن تمام خوش نصیبوں سے متعلق مُنْدَرِجہ ذیل فَرامَینِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی روشنی میں غور فرمائیں ۔
فَرامَینِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم
(۱)جس کا آخِر کلام لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ (يعنی كلمہ طَيّبَہ)ہو، وہ جنت ميں داخل ہوگا۔
(ابو داؤد ج ۳ ص ۱۳۲، رقم الحدیث ۳۱۱۶)
(۲) قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے
( ترمذی شریف ج 4ص 209)