رسولِ کریم رءوف الرحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فرامینِ جنّت نشان پڑھ کر تو ہرشخص کا حسنِ ظن یہی ہونا چاہے کہ موت کے وقت انتہائی نازک اور مشکل وقت میں مذکورہ عاشقانِ رسول کاكلمہ طَيّبَہ پڑھنا اور دنیا سے رخصت ہونے کے بعدا ن کے تروتازہ اَجسام کا قبروں سے صحیح و سلامت ظاہر ہونا، قبروں سے خوشبوکی لپٹیں آنا، ان عاشقانِ رسول کے مذکورہ عقائد کا عین شَرِیْعَت کے مطابق ہونے کی دلیل ہے۔ اور امید ہے اللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ان سے راضی ہوں گے اور ان شاء اللہ عزوجل وہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہوں گے ۔
ہر ذی شُعور اور غیر جانبدار شخص یہی کہے گا کہ یہ تو وہ خوش نصیب ہیں ، جنہوں نے ولیِ کامل کے دامن اور مسلکِ حقہ اہلسنت کی وہ بہاریں پائیں کہ انہیں وقتِ موت کلمہ طیبہ پڑھنے کی سعادت ملی، ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ یہ خوش نصیب قبْر، حشْر، میزان اور پل صِراط پربھی ہر جگہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے فضْل و کرم سے کامیاب ہوکر سرکار کی شَفاعَت کا مُژدہ جاں فِزا سن کر جنْتُ الفردوس میں آقا کا پڑوس پانے کی سعادت پالیں گے ۔