| آدابِ مرشدِ کامل |
سبزسبز عمامہ شریف کا تاج سجائے خوشبودار کَفَن اوڑھے مزے سے لیٹے ہوئے ہیں۔ آناً فاناً یہ خبر ہر طرف پھیل گئی اور رات گئے تک زائرین محمد احسان عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کے کَفَن میں لپٹے ہوئے ترو تازہ لاشے کی زیارت کرتے رہے۔ ( یہ واقعہ بھی کئی اخبارات میں شائع ہوا)
تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیرغیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے بارے میں غلط فَہمیوں کے شکار رہنے والے کچھ افراد بھی دعوتِ اسلامی والوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس عظیم فضل و کرم کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کرکے تحسین و آفرین پکار اٹھے اور دعوت اسلامی کے مُحبّ بن گئے۔ ٍ (ملخص از قبر کھل گئی ،ص ۲۸ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )
اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہوصَلُّو ا عَلَی الْحَبِيب صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
(۴)محمد نوید عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہ الْباری
ضلع جنت المعلی حلقہ گلشن عطّار طائی محلّہ مہاجر کیمپ نمبر ۷ ، باب المدینہ کراچی کے مقیم دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ سترہ سالہ اسلامی بھائی محمد نوید عطّاری کا ۱۸ رجب المرجب ۱۴۲۱ھ صبح تقریبًا آٹھ بجے انتقال ہوا۔تکفین کے بعد حسب وصیت مرحوم کے سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجا کر مُہاجر کیمپ نمبر ۷ کے قبرستان میں سُپردِ خاک کردیا گیا۔
جمعرات ربیع الغوث ۱۴۲۲ھ 12جولائی 2001 کو مرحوم محمد نوید عطّاریعلیہ رَحْمَۃُاللہ ِاْلباری نے اپنے بھائی کو خواب میں آکر بتایا کہ '' تم میری قبْر پر نہیں آتے ، آکر دیکھو تو سہی میری قبْر کا کیا حال ہوگیا ہے'' جس دن خواب آیا