| آدابِ مرشدِ کامل |
اسی حالت میں انہوں نے امیرِ اَہلسنّت دامت برکا تہم العالیہ کے مطبوعہ مَدَنی وصیت نامہ کو سامنے رکھ کر اپنا وصیت نامہ تیار کروا کر اپنے عَلاقے کے نگران کے سِپُرد کردیا اور پھر سَدا کیلئے آنکھیں مُوند لیں۔ وقتِ وفات ان کی عمْر تقریبًا پینتیس سال ہوگی۔ انہیں گلبہار کے قبرستان میں سِپُردِ خاک کردیا گیا۔ حسبِ وصیت بعدِ غسل کَفَن میں چہرہ چُھپانے سے قبل پہلے پیشانی پر اُنگشتِ شہادت سے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ؕ
سینہ پر
لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّد''رَّسُوْلُ اللہ،صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمِ
ناف اور سینے کے درمیانی حصہ کَفَن پر یا غوثِ اعظم دستگیر رضی اللہ عنہ ، یا امام اباحنیفہ رضی اللہ عنہ ، یا امام اَحمد رَضا رضی اللہ عنہ ، یا شیخ ضیاء الدین رضی اللہ عنہ اور انکے پیرو مرشِد کا نام لکھا گیا۔ دفن کرتے وقت دیوارِ قبر میں طاق بنا کر عَہد نامہ ، نقشِ نعلین ودیگر تبرکات وغیرہ رکھے گئے ۔ بعدِ دفن قبْرپر اذان بھی دی گئی اور کم و بیش بارہ گھنٹے تک ان کی قبْر کے قریب اسلامی بھائیوں نے اجتماع ذکْر و نعت جاری رکھا۔
وفات کے تقریباًساڑھے تین سال بعد بروز منگل ۶جمادی الثانی ۱۴۱۸ھ ( 7-10-97) کا واقعہ ہے ایک اور اسلامی بھائی محمد عثمان قادِرِی رَضَوی کا جنازہ اسی قبرستان میں لایا گیا۔ کچھ اسلامی بھائی مرحوم محمد احسان عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کی قبْر پر فاتحہ کیلئے آئے تو یہ منظر دیکھ کر انکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں! کہ قبر کی ایک جانب بہت بڑا شِگاف ہوگیا ہے اور تقریبًا ساڑھے تین سال قبل وفات پانے والے مرحوم محمد احسان عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری سرپر