تھا اس دن شدیدبارش ہوئی تھی۔چنانچہ جاکر دیکھا تو جمعرات کو ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث قبر دھنس گئی تھی۔
قبر کشائی اتوار کو صبح تقریبًا ساڑھے سات بجے مرحوم کے تمام بھائی بشمول دعوت اسلامی کے آٹھ حُفاظِ کرام قبر پر آئے ۔ کئی لوگوں کی موجودگی میں گورکن نے قبر کُشائی کی تو یہ منظر دیکھ کر تمام حاضرین کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ مرحوم نوید عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری جن کی وفات کو تقریبًا ۹ ماہ کاعرصہ گزر چکا تھا ۔ ان کا بدن تروتازہ اور کَفَن بھی سلامت ہے۔ سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے دونوں ہاتھ نماز کی طرح باندھے مزے سے لیٹے ہوئے ہیں۔
چاراسلامی بھا ئیوں نے مل کر ان کی لاش کو قبر سے نکالا۔ ان کے جسْم اور قبْر سے خوشبو کی لپٹیں آرہیں تھیں۔ قبر کو دُرُست کرکے دوبارہ دفن کردیا گیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نوید عطاری کی مغفِرت کرے اور ان کے صدْقے ہم سب کو بخشے۔ (امین بجاہ النبی الامین )
اس واقعہ کی بھی اخبارات کے ذریعے کافی تشہیر ہوئی۔(ملخص از قبر کھل گئی ،ص ۳۱ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )
اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو