Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
254 - 269
امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے حملے کے واقعہ کے بعد 

بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میں ایک اِستِغاثہ پیش کیا۔

(اس کے چند اشعار ہدیہ ناظرین ہیں جسے پڑھ کر اسلافِ کرام کی یادیں تازہ ہونگی 

کہ آپ دامت برکاتہم العالیہ اپنے قاتلوں کو بھی دعائے خیر سے نوازتے ہیں)
اچانک دشمنوں نے کی چڑھائی یا رسول اللہ ﷺ               شہید  دو  ہوگئے  اسلامی بھائی یا رسول اللہ ﷺ

 مِرا  دشمن  تو  مجھ  کو  ختم  کرنے  آہی پہنچاتھا               	    	 میں قرباں تم نے میری جاں بچائی یا رسول اللہ ﷺ

 عدو  جھک  مارتا ہے خاک اڑاتا ہے تیرے قربان                مجھے  اب تک  نہ کوئی آنچ  آئی یا رسول اللہ  ﷺ

 شہید  دعوت  اسلامی  سجاد  واُحد  آقا ﷺ                رہیں جنت  میں  یکجا  دونوں  بھائی رسول اللہ  ﷺ

 نہیں سرکار  ﷺ ذاتی دشمنی میری کسی سے بھی             	 ہے میری نفس و شیطان سے لڑائی یا رسول اللہ  ﷺ

 حُقوق اپنے کئے ہیں  درگزر  دشمن کو بھی سارے                اگر چہ  مجھ پہ  ہو  گولی  چلائی  یا  رسول اللہ  ﷺ

 تمنا  ہے  میرے  دشمن  کریں  توبہ  عطا کردو              	      انہیں  دونوں  جہاں  کی تم بھلائی یا رسول اللہ  ﷺ

 اگر چہ  جان  جائے  خدمتِ  سنت نہ چھوڑوں گا                    شہا  کرتے  رہیں  مشکل  کشائی  یا رسول  اللہ  ﷺ

 تمنا  ہے  تیرے  عطّار  کی یوں  دھوم  مچ جائے                   مدینے  میں  شہادت اس نے  پائی یا  رسول اللہ  ﷺ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ اَظْہر مِنَ الشَّمس ہوا کہ دعوتِ اسلامی پر اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے حبیب مکرم   کا خُصوصی کرم ہے اور اس مَدَنی تَحریک کے مَہکے مَہکے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہنے والا خوش نصیب مسلمان دونوں جہاں کی نعمتوں سے مالا مال ہوتا ہے اور فیض یاب ہوکر دوسروں کو بھی فیض لٹاتا ہے۔
Flag Counter