اس فائرنگ کے نتیجے میں مبلغِ دعوت اسلامی محمد سجاد عطّار ی اور الحاج محمد اُحد رضا عطّاری جام شہادت نوش کر گئے۔ دونوں شہیدانِ دعوت اسلامی کو مرکز الاولیاء لاہور کے مشہور ''مِیانی قبرستان''میں سپردِ خاک کیا گیا۔ تدفین کے تقریباً آٹھ ماہ بعد لاہور میں شدید بارشیں ہوئیں۔ جس کے سبب شہیدِ دعوت اسلامی حاجی اُحد رضا عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کی قبر مُنْہَدِم ہوگئی ۔
اَعِزّہ کی خواہش پر لاش کی منتقلی کا سلسلہ ہوا ۔کافی لوگوں کی موجودگی میں مِٹی ہٹا کر جب چہرے کی طرف سے سِل ہٹائی گئی تو خوشبو کی لَپَٹ سے لوگوں کے مَشّامِ دماغ معطّر ہوگئے۔مزید سلیں ہٹالی گئیں ۔ عینی شاہدین کے بیان کے مطابق شہیدِ دعوتِ اسلامی حاجی اُحد رضا عطّاری ( جوکہ امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے مرید تھے۔) کا کفن تک سلامت تھا۔ تدفین کے وقت جو سبز سبز عمامہ شریف سر پر باندھا گیا تھا وہ بھی اسی طرح سجا ہوا تھا ۔ چہرہ بھی پھول کی طرح کھلا ہوا تھا ہاتھ نماز کی طرح بندھے ہوئے تھے ۔جبکہ شہید کو جہاں گولیاں لگی تھیں وہ بھی زَخْم تازہ تھے اور کفن پر تازہ خون کے دھبے صاف نظر آرہے تھے دُرود و سلام کی صداؤں میں شہید کی لاش کو اٹھا کر دوسری جگہ پہلے سے تیار شدہ قبْر میں منتقل کردیا گیا (یہ واقعہ مختلف اخبارات میں بھی شائع ہوا۔ملخص از قبر کھل گئی ،ص ۲۵ )
اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو