Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
250 - 269
''کرامات'' کے چھ حُرُوف کی نسبت سے

عاشقانِ رسول کی قبریں کُھلنے کے 6واقعات
(۱)بنتِ غلام مُرسَلین عطاریہ
    ۳ رَمَضانُ المبارَک ۱۴۲۶ھ (8.10.05) بروز ہفتہ پاکستان کے مشرقی حصّے میں خوفناک زلزلہ آیا جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے انہیں میں مُظَّفر آباد ( کشمیر)کے عَلاقہ'' مِیرا تسو لیا ں ' ' کی مُقیم 19 سالہ نسرین عطاّؔریہ بنتِ غلام مُرسلین شہید ہو گئیں ۔ مرحومہ سلسلہ عالیہ قادِریہ عطاریہ کے عظیم بُزُرگ شَیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رَضَوری دامت برکاتہم العالیہ سے مُرید تھیں ا ور مرتے دم تک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہیں۔دعوتِ اسلامی کے زیرِانتظام ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں با قاعدگی کے ساتھ شرکت بھی فرماتی تھیں ۔ بعدِ تدفین مرحومہ نسرین عطاّؔریہ اپنے والِدین اور چھوٹے بھائی کے خواب میں مسلسل آتیں اور کہتیں،'' میں زندہ ہوں اوربَہُت خوش ہوں '' بار بار اِس طرح کے خواب دیکھنے کی بِنا پر والِدَین کو تشویش ہو ئی کہ کہیں ہماری بیٹی قَبْرمیں زندہ تو نہیں!     اُنہوں نے وہاں کے اسلامی بھائیوں سے رابِطہ کیا، اسلامی بھائیوں نے مُفتیانِ کرام سے قَبْر کشائی کی اجازت طلب کی اُنہوں نے منع فرمایا مگر مرحومہ کے والِد اور دیگرگھر والوں نے ۸ ذوالقعدۃُ الْحَرام ۱۴۲۶ھ (10.12.05) شبِ پیر را ت تقریباً 10بجےقَبْر کو کھول دیا، یکبارگی آنے والی خوشبوؤں کی لپٹوں سے مَشامِ دماغ مُعَطَّر ہو گئے ! شہادت کو 70 ایّام گزر جانے کے باوُجُود نسرین عطاّؔریہ کا کفن سلامت اور بدن بِالکل تروتازہ تھا !
Flag Counter