جب مرحوم کو غُسل کیلئے لے جانے لگے تو اچانک چادر چِہرے سے ہٹ گئی، مرحوم کا چِہرہ گلا ب کے پھول کی طرح کھِلا ہواتھا، غُسل کے بعد چِہرہ کی بَہار میں مزید نِکھارآگیا۔ تدفین کے بعد عاشِقانِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نعتیں پڑھ رہے تھے، قَبْرسے خوشبوکی ایسی لَپٹیں آنے لگیں کہ مَشامِ جاں مُعَطّر ہوگئے مگر جس نے سونگھی اُس نے سونگھی۔ گھر کے کسی فرد نے انتِقال کے بعد خواب میں مرحوم محمد وسیم عطّاری کو پھولوں سے سجے ہوئے کمرے میں دیکھا، پوچھا، کہاں رہتے ہو؟ہاتھ سے ایک کمرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،''یہ میرا مکان ہے یہاں میں بَہُت خوش ہوں''۔پھر ایک آراستہ بستر پر لیٹ گئے۔ مرحوم کے والِد صاِحب نے خواب میں اپنے آپ کو وسیم عطّاری کی قَبْر کے پاس پایا اور قبرشَق ہوئی اور مرحوم سر پر سبز سبز عَمامہ سجائے ہوئے سفید کفن میں ملبوس باہَر نِکل آئے ! کچھ بات چیت کی اور پھر قَبْر میں داخِل ہوگئے اور قَبْر دوبارہ بند ہوگئی۔ اَللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔ (ملخصاً فیضانِ بسم اللہ ص ۲۴مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )
دعائے عطّار:یا اللہ عَزَّوَجَلَّ میری، مرحوم کی اورامّتِ محبوب صلّیَ اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مغفِرت فرما۔اور ہم سب کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اِستِقامت دے اور مرتے وقت ذِکر و دُرُود اور کَلِمہ طیّبہ نصیب فرما۔اٰمین بجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم