Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
244 - 269
 (۵)محمد وسیم عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہ الْباری
قابلِ رَشک موت محمد وسیم عطّاری (بابُ المدینہ نارتھ کراچی)امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے مرید تھے اور ان کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت پاتے رہتے تھے۔ ان اسلامی بھائی کے ہاتھ میں کینسر ہوگیا اور ڈاکٹروں نے ہاتھ کاٹ ڈالا۔ 

    امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ ان کے عَلاقے کے ایک اِسلامی بھائی نے بتایا، وسیم بھائی شدّتِ دَرْد کے سبب سخْت اَذِیّت میں ہیں۔ میں اَسپتال میں عِیادت کیلئے حاضِر ہوا اور تسلّی دیتے ہوئے کہا ، دیوانے !بایاں ہاتھ کٹ گیا اس کا غم مت کرو۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دایاں ہاتھ تو مَحفوظ ہے اور سب سے بڑی سعادت یہ کہ اِنْ شَآء اللہ عَزَّوَجَلَّ ایمان بھی سلامت ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے انہیں کافی صابِر پایا، صِرْف مُسکَراتے رہے یہاں تک کہ بسترسے اُٹھ کر مجھے باہَر تک پہنچانے آئے۔ رفتہ رفتہ ہاتھ کی تکلیف ختْم ہوگئی مگر بے چارے کا دوسرا امتحان شروع ہوگیا اور وہ یہ کہ سینے میں پانی بھر گیا، دَرْد و کَرْب میں دِن کٹنے لگے ۔ آخِر ایک دِ ن تکلیف بَہُت بڑھ گئی، ذِکْرُ اللہ شروع کردیا۔سار ادِن اللہ ، اللہ کی صداؤں سے کمرہ گونجتا رہا، طبیعت بَہُت زِیادہ تشویش ناک ہوگئی تھی، ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی کوشِش کی گئی مگر انکار کردیا، دادی جان نے فَرطِ شفقت سے گود میں لے لیا، زَبان پر کَلِمہ طیّبہ،لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّد''رَّسُوْلُ اللہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم جاری ہوا اور 22سالہ محمد وسیم عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہ الْباریکی روح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی۔
اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ
(پ ۲ البقرہ ۱۵۶)
Flag Counter