Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
246 - 269
 (۶) عطّاريہ اسلامی بہن
    سانگھڑ شہر کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی کاحلفیہ بیان ہے کہ میری بہن بنتِ عبدالغفار عطّاریہ کو کینسر کے موذی مَرَض نے آلیا ۔ آہستہ آہستہ حالت بگڑتی گئی ڈاکٹروں کے مشورہ پرآپریشن کروايا، طبیعت کچھ سنبھلی مگر کم و بیش ایک سال بعد مَرَض نے دوبارہ زور پکڑا۔لہٰذاراجپوتانہ ہسپتال (حیدرآبادبابُ الاسلام سندھ) میں داخل کردیا گیا۔

    ایک ہفتہ ہسپتال میں رہیں مگرحالت مزید ابتر ہوتی چلی گئی اچانک انہوں نے با آواز کَلِمَہ طَیِبَہ کا وِرد شروع کردیا۔ کبھی کبھی درمیان میں
الصلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْل اﷲ وَعلیٰ اٰلک واَصْحَابِکَ یا حَبِیْبَ اﷲ
بھی پڑھتیں۔ بلند آواز سے
لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَيْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کا وِرْد کرنے سے پورا کمرہ گونج اٹھتا تھا عجیب ایمان افروز منظر تھا جو آتامزاج پرُسی کے بجائے ان کے ساتھ ذکْرُ اللہ شروع کردیتا ڈاکٹرز اوراسپتال کا عملہ حیرت زدہ تھا کہ یہ اللہ کی کوئی مقبول بندی معلو م ہوتی ہے ورنہ ہم نے تو آج تک مریض کی چیخیں ہی سنی ہیں اور یہ مریضہ شکوہ کرنے کے بجائے مسلسل ذِکْرُاللہ عَزّوَجَل میں مصروف ہے۔

    تقریباً12گھنٹے تک یہی کیفیت رہی ۔اذانِ مغرب کے وقت اسی طرح بلند آواز سے کَلِمَہ طَیِِّبَہ کا وِرْد کرتے کرتے ۔ان کی روح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرگئی۔

    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یہ خوش نصیب اسلامی بہن بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ اور اس زمانے کے سلسلہ عالیہ قادریہ رَضَویہ عطّاریہ کے عظیم بُزرُگ شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ سے مرید تھیں۔(ملخصاً نسبت کی بہاریں ص ۱۱ )

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيب     صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
Flag Counter