Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
243 - 269
    ایک سیِّد زادے نے والِد مرحوم کو غسل دیا۔ چُونکہ والِدصاحِب کواُنگلیوں پر گن کراَذکار پڑھنے کی عادت تھی لہٰذا آپ کی اُنگلی اُسی انداز میں تھی گویا کچھ پڑھ رہے ہیں، بار بار اُنگلیاں سیدھی کی جاتیں۔ مگر دوبارہ اُسی انداز پر ہوجاتیں،اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ کثیر اسلامی بھائی جنازے میں شریک ہوئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے بھائی کی بھی والِد صاحِب کے ساتھ حج پر جانے کی ترکیب تھی۔ وہ حج کی سعادت سے بَہرہ مَند ہوئے۔ بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ میں نے مدینہ مُنوَّرہ میں رو رو کر بارگاہِ رسالت صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میں عرض کی کہ میرے مرحوم والِد کا حال مجھ پر مُنکَشِف ہو، جب رات کو سویا تو خواب میں دیکھا کہ والِد بُزرُگوار علیہ رحمۃالغفَّار اِحْرام پہنے تشریف لائے اور فرمارہے ہیں،''میں عمرہ کی نیّت کرنے (مدینے شریف)آیا ہوں ، تم نے یاد کیا تو چلا آیا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں بَہُت خوش ہوں''۔ دوسرے سال میرے بھتیجے نے مسجِدُ الْحرام شریف کے اندر کعبۃُ اللہ شریف کے سامنے اپنے دادا جان یعنی میرے والِد مرحوم حاجی عبدالرحیم عطّاری کو عَین بیداری کے عالَم میں اپنے برابر میں نَماز پڑھتے دیکھا۔ نماز سے فارِغ ہوکر بَہُت تلاش کیا مگر نہ پاسکے۔ (ملخصاً فیضانِ بسم اللہ ص ۱۰۲مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيب     صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
مدینے کا مسافِر سِندھ سے پَہُنچا مدینے میں

قدم رکھنے کی نوبت بھی نہ آئی تھی سفینے میں

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
Flag Counter