Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
240 - 269
    بعدِ تدفین عزیز و اقارِب رخصت ہوگئے۔ مگر اب بھی روحانی رشتہ دار یعنی اسلامی بھائی کثیر تعداد میں کافی دیر تک قبْر پر موجود رہے اور نعت خوانی ہوتی رہی۔
مرحوم کو سرکارِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے دامن میں چُھپالیا
    مرحوم کے سوئم کے سلسلے میں شہیدِ مسجد کھارادر بابُ المدے نہ (کراچی) میں عشاء کے بعد اسلامی بھائیوں نے قرآن خوانی اوراجتماعِ ذکرونعت کا انعقاد کیا۔ اجتماع کثیر تھا اس لئے مسجد کے باہَر ہی اجتماع کا انتظام کیا گیا۔ مولانا حَسَن رضا خان علیہ الرحمتہ الرحمٰن کی لکھی ہوئی نعت شریف کے اس شعر کی دیر تک تکرار ہوتی رہی۔    ؎
بخشوانا مجھ سے عاصی کا رَوا ہوگا کسِے؟

کس کے دامن میں چھُپوں دامن تمہارا چھوڑکر
    حاضرین پر ایک ذوق کی کیفیت طاری تھی امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ فرماتے ہیں ایک خوش نصیب اسلامی بھائی نے مجھے بتایا کہ اس دوران مجھ پر غنُودگی طاری ہوگئی آنکھ بند ہوئی اور دل کی آنکھیں کھل گئیں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَيْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی چادر مبارکہ پھیلائے ہوئے اجتماعِ ذکرو نعت میں جلوہ افروز ہیں اور خوش نصیبوں کو بلا بلا کر چادر مبارَکہ میں چُھپارہے ہیں۔ اتنے میں مرحوم عبدالغفار عطّاری علیہِ رَحْمۃُ الباری بھی سنت کے مطابق سفید مدنی لباس میں عِمامہ سر پر سجائے نمودار ہوئے تو۔ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَيْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مرحوم کو بھی دامنِ رَحمت میں چُھپالیا۔
Flag Counter