Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
239 - 269
    قرآن و سنت کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے لگتا ہے وہ زندگی کی بازی جیت گئے، انہیں سنّتیں کام آگئیں، جن کی سنّتیں زندہ کرنے کی دھن تھی۔ ان شفیق آقاصلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَيْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کرم ہو ہی گیا۔ 

مرحوم تختہ غسل پر مسکرا دیئے!امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ ارشاد فرماتے ہیں! میں مرحوم کی تکفین و تدفین میں اول تا آخِر شریک رہا۔ چند مبلِغین دعوتِ اسلامی مل جل کر نہایت ہی احتیاط کے ساتھ مرحوم کو غسْل دے رہے تھے اور میں انہیں غسْل کی سنتیں بتا رہا تھا۔ جب دورانِ غسْل مرحوم کو بٹھایا گیا تو چہرے پر اس طرح مُسکَراہٹ پھیل گئی، جس طرح وہ اپنی زندگی میں مُسکَرایا کرتے تھے۔ 

     میں اس وقت مرحوم کی پشت پر تھا، جتنے اسلامی بھائی چہرے کی طرف تھے ان سب نے یہ منظر دیکھا۔ کَفَن پہنانے کے بعد چہرہ کھلا چھوڑ دیا گیا اور آخری دیدار کیلئے لوگ آنے شروع ہوئے، ہم مل کر نعت شریف پڑھ رہے تھے۔ بعض دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مرحوم کے ہونٹ بھی جُنبش کر رہے تھے۔ گویا نعت شریف پڑھ رہے ہیں۔

     حسبِ وصیت امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی، جنازہ مبارَکہ کا جُلوس بَہُت بڑا تھا اور سماں بھی قابلِ دِیْد تھا۔ ذِکْر و دُرُوداور نعت و سلام سے فضا گونج رہی تھی۔
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

مَحبوب کی گلیوں سے ذرا گھوم کے نکلے
بالآخِر اشکبار آنکھوں کے ساتھ مرحوم کو سِپُردِ خاک کردیا گیا۔
Flag Counter