بابُ المدینہ (کراچی) کے عَلاقہ نیا آباد کے ایک مُبلّغِ دعوتِ اسلامی کا بیان اپنے انداز و الفاظ میں پیش کرتا ہوں، ان کا کہنا ہے کہ میرے والِدِ بُزُرْگوار حاجی عبدُالرّحیم عطّاری(پٹنی) جن کی عمر کم و بیش70سال تھی۔ ابتِدائی دَور دُنیا کی رنگینیوں کی نَذْر رہا مگر پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے زندگی میں مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا۔1995ء میں جب دوسری بار حج کا مُژْدَہ جانفِزا ملا تو ان کی خوشی قابلِ دید تھی۔ جیسے جیسے روانگی کا وقْت قریب آرہا تھا،خوشی دو چند ہوتی جارہی تھی۔آخر ان کی خوشیوں کی معراج کا وقت قریب آگیا۔ رات4:00بجے ایئرپورٹ کی طرف روانگی تھی۔ پوری رات خوشی خوشی تیاری میں مشغول رہے، مَہمانوں سے گھر بھرا ہوا تھا تقریباً3:00بجے اِحْرام برابر میں رکھ کر اپنے کمرے میں لیٹ گئے۔ میں بھی لیٹ گیا، ابھی بمشکِل پندرہ مِنَٹ