Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
238 - 269
سال قبل اسلامی بھائیوں کا مدنی ماحول مُیَسَّر آگیا۔ شَیخِ طريقت امير اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ سے مرید ہوکر سلسلہ عاليہ قادِريہ رَضَويہ عطّاريہ ميں داخل ہوگئے ۔ عطّاری تو کيا ہوئے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَل ّجینے کا انداز ہی بدل گيا۔

     فلمی گانوں کی جگہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَليہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری نعتوں نے لے لی۔ کبھی اسٹیج پر آکر مزاحیہ لطیفے سنا کر لوگوں کو ہنساتے تھے، اب سرکار صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَيہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہِجْر وفِراق کے پُر سوز قصیدے گُنگُنا کر عاشقوں کو رُلانے اور دیوانوں کو تڑپانے لگے۔''دعوتِ اسلامی''کے پاکیزہ مَدَنی ماحول اور امير اہلسنت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ جيسے ولیِ کامل کی صحبتِ با اثر نے ایک ماڈرن نوجوان کو پیارے رَسُول صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَيْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیوانہ اور سَرتا پا سنتوں کا نُمونہ بنادیا۔ چہرے پر داڑھی مبارک سر پر زلفیں اور ہر وقت سنّت کے مطابق لباس اور سر عِمامہ مبارَکہ سے آراستہ رہنے لگا۔ نہ صرف خود سنتوں پر عَمَل کرتے بلکہ اپنے بیان کے ذریعے دوسروں کو بھی سنتوں پر عمل کی ترغیب دلاتے رہے۔ شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک اچھے مبلِغ، نعت گو شاعر تھے اور میرا حسنِ ظن ہے کہ وہ عاشقِ رسول اور بااخلاق و باکردار مسلمان تھے۔

    چند روز بسترِ علالت پر رہ کر رَبِیْعُ الغوث شریف کی چاند رات ۱۴۰۶؁ھ شبِ ہفتہ بمطابق 14 دسمبر ۱۹۸۵؁  کو صرف ۲۲ سال اس بے وفا دنیا میں گزار کر بھر پور جوانی کے عالم میں اس دنیا سے کوچ کرگئے۔
( اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ )
Flag Counter