| آدابِ مرشدِ کامل |
یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم آبھی جائيے!
یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ َّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میری مدد فرمائيے!
یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مجھے مُعاف فرمادیجئے!
اِس کے بعد با آوازِ بُلندکَلِمَہ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّد''رَّسُوْلُ اللہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم
پڑھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے۔ جی ہاں جو مسلمان حادِثہ میں فوت ہو وہ شَہید ہے۔ (ملخصاً فیضانِ بسم اللہ ص ۳۵ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ) واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے یوں نہ فرمائیں تیرے شاہد کے وہ فاجر گیا اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيب صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
(۳)الحاج عبداالغفّار عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہ الْباری
مرحوم عبدالغفار عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہ الْباری حسین نوجوان تھے۔ آواز اچھی تھی، اِبتَداء ًماڈرن دوستوں کا ماحول ملا تھا ۔ (جیسا کہ آجکل عام ماحول ہے اور معاذاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے مَعْيوب بھی نہیں سمجھا جاتا)۔ گانے وغیرہ گاتے، موسیقی کا فن سیکھا، امریکا میں کَلَبْ میں ملازمت کرنے کیلئے بڑی بھاگ دوڑ بھی کی لیکن مقدر میں ''دَرْدِ مدینہ'' تھا۔
قسمت اچھی تھی، امریکہ میں نوکری ہی نہ مل سکی ورنہ آج شاید ہزاروں دلوں میں ان کی مَحبَّت و عقیدت کی شَمْعَ روشن نہ ہوتی۔ خوش قسمتی سے انتقال سے تقریباً سات