مردے نے آنکھیں کھول د یں 20 اگست 2004شب جمعہ جھڈو شہر میں عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع سے شہزادہ عطّار حاجی اَحمد رضا قادری رَضَوی عطّاری مد ظلہ العالی نے سنتوں بھرا بیان فرمایا، بعدِ بیان ملاقات پر ایک اسلامی بھائی نے حلفیہ بتایا کہ میرے ۲۲ سالہ جواں سال بھائی محمد کامران عطاری جو4سال قبل شیخ طریقت امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ میں داخل ہوکر عطّاری بن چکے تھے۔ جبھی سے ہر سال پابندی سے رمضان المبارک کے آخری عشرے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعی سنتوں بھرے اعتکاف کی سعادت بھی پا رہے تھے۔ان کی ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف رہنے لگی۔ علاج سے وقتی افاقہ ہوتا، پھر تکلیف شروع ہوجاتی۔ آخر کار جب باب المدینہ (کراچی) میں ٹیسٹ کروایا تو کینسر تشخیص ہوا۔ مَرَض دن بدن بڑھتا رہا، آخر کار ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا۔جب بھائی کی حالت زیادہ بگڑی تو باب المدینہ (کراچی) کے جناح ہسپتال کے وارڈ نمبر۴ میں داخل کردیا گیا۔ڈاکٹروں نے ہر ممکنہ کوشش کی مگر 10جنوری 2004مغرب کے وقت بھائی نے دم توڑ دیا، وقتِ انتقال بھائی جان کا سر میری گود میں تھا۔والد اور والدہ کی حالت غیر تھی، جَوان بچے کی موت پر ان کی حالت دیکھی نہیں جارہی تھی۔