Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
235 - 269
    میرے ذہن میں اچانک خیال آیا کہ میرا بھائی ۔ زمانے کے ولی امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ میں مرید تھا۔ پھر یہ بِغیر توبہ اور کلمہ پڑھے بِغیرکیسے مرگیا۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہاتھا کہ اچانک میراوہ بھائی جسے چند منٹ پہلے ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے کر ڈرپ وغیرہ نکال کر ہاتھ پاوں سیدھے کردئيے تھے ۔اس نے آنکھیں کھول دیں اوربڑے پُرسُکون انداز میں والدہ کو مخاطب کرکے کہا، امّاں! شکوہ مت کرنا، پھر پانچ مرتبہ کہا اللہ بَہُت بڑا ہے، پھر بلند آواز سے
اَعُوْذُ بِا للہِ، بِسْمِ اللہ
پڑھ کر
  لَآ اِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسوْلُ اللہ صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَيہٖ وَالِہٖ وَسَلَّم
کہا اور بھائی نے ذِکْرُ اللہ شروع کردیا، ہسپتال کاکمرہ اللہ، اللہ کے ذِکْر سے گونجنے لگا۔ اس دوران ڈاکٹر، نرس اور دیگر افراد بھی میرے مردہ بھائی کو بولتا دیکھ کر جمع ہوچکے تھے اور سکتے کے عالم میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول اور ولی کامل کے دامن سے وابستگی کی بَرَکات کے ایمان افروز نظاروں سے مستفیض ہورہے تھے۔ آہستہ آہستہ بھائی کی آواز مَدْہَم ہوتی چلی گئی اور کچھ ہی دیر بعدمیرے بھائی کامران عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہ الْباری نے کَلِمَہ طَیِبَہ پڑھ کر ذِکْرُاللہ کرتے کرتے دم توڑ دیا۔ یہ ایمان افروز منظر دیکھ کر سب کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ 

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيب     صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
Flag Counter