نہ چُھوٹے ہاتھ سے دامن کبھی عطّار کا یار بّ عَزَّوَجَلَّ .
بنادے باوفا دوں واسطہ سرکار کا یاربّ عَزَّوَجَلَّ .
.ادا ہو کس زبان سے شُکر میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ
.کہ تو نے ہاتھ میں دامن دیا عطّار کا یار بّ عَزَّوَجَلَّ
مجھے جلوت میں خلوت میں مجھے باطن میں ظاہر میں .
بنادے با ادب اور باوفا عطّار کا یار بّ عَزَّوَجَلَّ .
.ہے دامن مرشِدی کا ہاتھ میں نامہ میں عصیاں ہیں
.بھرم رکھنا قِیامت میں سگِ عطّار کا یاربّ عَزَّوَجَلَّ
پڑوسی خلد میں مجھ کو بنادے اپنی رَحمت سے .
جناب مصطفی کا حضرت عطّار کا یاربّ عَزَّوَجَلَّ .
.مجھے طیبہ میں زیرِ گنبدِ خَضَراء اَجَل آئے
.وسیلہ ہے ترے دربار میں عطّار کا یاربّ عَزَّوَجَلَّ
قِیامت میں تیرے فضل و کرم سے ساتھ ہو مولیٰ عَزَّوَجَلَّ .
میرے غوث ورضا، مَدَنی ضیائی، عطّار کا یاربّ عَزَّوَجَلَّ .
.گدا گو بے عمل ہے اور بُرا ہے سخت مجرم ہے
.جو کچھ بھی ہے مگر یہ ہے ترے عطّار کا یاربّ عَزَّوَجَلَّ
ملخص از رسالہ ''عیسائی پادری امیر اہلسنّت دامت بَرَکاتہم العالیہ کے قدموں میں'' صفحہ آخر)