وابستہ ہوں اور یہ جاہل و بے عمل آدمی اتنا بڑھ بڑھ کر بول رہا ہے ۔لہذا! مجھ سے برداشت نہ ہوا اور میں نے اسے کھری کھری سنادیں ۔اس پر وہ غصے کے مارے کھڑا ہوگیا اور گرج کر کہنے لگا، تم نے ہماری بے ادَبی کی ہے، تم ہمیں نہیں جانتے، اب اپنا انجام خود ہی دیکھ لوگے، نکل جاؤ اس دربار سے، ہماری ناراضگی تمہیں بہت مہنگی پڑے گی۔''
میں بھی یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل آیاکہ جو تیری مرضی آئے کرلینا ، اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ میرا پیر کامل ہے ۔اس رات تھکن کے باعث جلدی آنکھ لگ گئی۔کم وبیش رات ساڑھے تین کا وقت ہوگا،میں گہری نیند سورہا تھا کہ اچانک کسی نے مجھے جھنجھوڑا، میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ جیسے ہی میری نگاہ دروازے کی طرف اٹھی تو خوف کے مارے میری چیخ نکل گئی،واللہ سامنے خوفناک شکلوں والی کوئی انجانی مخلوق موجود تھی،جو 2 تھے، ان کے سر چھت سے ٹکرارہے تھے جبکہ کالے کالے لمبے بال پیروں تک لٹک رہے تھے،نیز لمبے لمبے دانت سینے تک باہر نکلے ہوئے تھے ۔وہ بلائیں بڑی بڑی سرخ آنکھوں سے مجھے غصے میں گھور رہی تھیں۔ یکایک دونوں بلائیں میری طرف بڑھیں، اس سے پہلے کہ میں سنبھلتا ، انہوں نے میری گردن دبوچ لی اور زمین پر گرادیا، ان کے جسم سے مُردار کی سی سَرانڈ اور شدید سخت بدبو آرہی تھی،دونوں بلائیں میری گردن کو پوری قوت سے دبانے لگیں۔میرا دم گھٹنے لگا، میں چِلّا رہا تھا مگر نہ جانے کیوں کمرے