بھائی کا حلفیہ بیان ہے کہ مجھے میرا دوست ایک دن ضد کرکے کسی ایسے شخص سے ملاقات کیلئے لے گیا جسے وہ اپنا پیر و مرشِد بتاتا تھا۔وہ شخص نماز نہیں پڑھتا تھا اور مشہور یہ کر رکھا تھا کہ یہ مدینے میں نماز پڑھتے ہیں ۔یہ شخص ننگے سرتھا، چہرے پر خشخشی داڑھی اور مونچھیں بہت بڑی بڑی تھیں،ہاتھوں کے ناخن بھی بڑھے ہوئے تھے۔ کمرے میں عجیب سی بدبو پھیلی ہوئی تھی جس سے مجھے وحشت سی ہونے لگی۔ اتنے میں وہ پیر اپنے فضائل خود اپنے ہی منہ سے بتانے لگا کہ میرے پاس بہت بڑی طاقت ہے ، میرا مقام لوگ نہیں جانتے،اگر میں خود کو ظاہر کردوں تو لوگ اپنے مرشدوں کو چھوڑ کر میرے پاس جمع ہوجائیں۔ اسی طرح تکبرانہ انداز میں نہ جانے وہ کیا کیا بولتا رہا۔ پھر مجھ سے کہنے لگا کہ ''تم خوش نصیب ہو جو میرے پاس آنے کی سعادت مل گئی ، مجھ سے مرید ہوجاؤ،ہوا میں اڑو گے اور پانی پر چلو گے۔''
میں اس کی خلاف ِ شرع وضع قطع اورتکبرانہ اندازِ گفتگو سے پہلے ہی بیزار ہورہا تھا۔ یہ سن کر میرے دل میں مزید اور بھی شدید نفرت پیدا ہوئی۔مگر اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے بولا کہ '' اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ میں مرشدِ کامل سے مرید ہوں '' اس پر وہ بلند آواز سے کہنے لگا میرے ہاتھ پر مرید ہوکر دیکھو تو پتہ چلے گا کہ کامل پیر کسے کہتے ہیں؟ا ب تو میرے تن بدن میں آگ سی لگ گئی کہ میں زمانے کے ولی شیخ طریقت امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے دامن سے