طبیعت خراب ہونے لگتی دل گھبرانے لگتا اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں پہنچ جاتا۔
بالآخرمایوس ہوکر میں نے خود کشی کا ارادہ کرلیا،اور شاید میں خودکشی کرلیتا مگر خو ش قسمتی سے کسی طرح مجھے شہزادہ عطّارحاجی احمد عبید الرضا قادری مدظلہ العالی سے ملاقات کی سعادت مل گئی۔ میری رُوداد سن کر انہوں نے بہت ہی شفقت فرمائی اور بڑے پیار سے مجھے سمجھایا اور توبہ کروائی۔ اَلْحَمْدُللہ عَزَّوَجَلَّ میں نے ان کی وکالت کے ذریعے ا ن کے والد صاحب(امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ ) سے تجدید بیعت بھی کی۔انہوں نے فرمایا کہ شَجَرَہ عطّاریہ کے اَوراد پڑھنے کا معمول رکھوانشاء اللہ عَزَّوَجَلَّ غیب سے مدد ہوگی، گھبراؤ مت ،اَلْحَمْدُللہ عَزَّوَجَلَّ تم ایک ولی کامل کے مریدہو، بس ارادت مضبوط رکھوکوئی خوف مت رکھو ۔کُفریات بکنے والوں کے پاس کسی صورت میں نہ جانا، فرائض وواجبات کی سختی سے پابندی رکھو، اللہ عَزَّوَجَلَّ حفاظت کرنے والا ہے۔
اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ آج تین سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ میں نے ان لوگوں کے پاس جانا چھوڑ دیا ہے۔ اور اب میں بَہُت پُرسکون ہوں عرصہ دراز کے بعد جب میں نے باجماعت نمازپڑھنا شروع کی تو میرے آنسو نکل آئے، میں نے سابقہ گناہوں بھری زندگی سے توبہ کرلی ہے۔ مگرجب سابقہ حالات کے متعلق غور کرتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں کہ اگر نگاہِ مرشِدِ کامِل نہ ہوتی تو نہ جانے میرا کیا بنتا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم