Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
225 - 269
کے لئے ایک وظیفہ بھی دیا اور کہا کہ اسے پڑھنے کی وجہ سے تم لوگوں کے دل کی پوشیدہ باتیں جان لو گے۔میں نے بلاسوچے سمجھے اس وظیفے کو اپنا معمول بنا لیا۔

    یوں ایک عرصہ تک وظائف کئے اور پابندی سے ا سکے پاس جاتا رہا،مگر میرے دل میں روحانیت بڑھنے کے بجائے سختی بڑھتی چلی گئی جس کے نتیجے میں میرا دل گناہوں پردَلیر ہوگیا۔ میں نے اسے آج تک نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا اور حیران کن بات یہ تھی کہ میں اس سے بدظن ہونے کے باوجود اس کے پاس مسلسل جاتا رہتا تھا۔نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا۔ آہستہ آہستہ میں نے دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنا چھوڑدی،پھر سرسے عمامہ شریف بھی اترگیا اور(معاذ اللہ) داڑھی شریف بھی منڈوا دی نمازیں بھی پڑھنا چھوڑ دیں اور ہراس گنا ہ میں بھی ملوث ہوتاچلا گیا جو مَدَنی ماحول سے وابستگی سے پہلے بھی نہیں کیا کرتا تھا،آہ! میری حالت انتہائی عبرتناک ہوچکی تھی۔

    کچھ عرصہ تک تو میرا وہاں بہت دل لگامگر پھر دل وہاں سے بھی اچاٹ ہونا شروع ہو گیااورگھبراہٹ طاری رہنے لگی۔کیونکہ اب وہ مجھ سے ایسی باتیں کرنے لگا تھاجنہیں سن کر میں کانپ اٹھتا۔ وہ کہتاکہ(معاذ اللہ) اللہ ، رسول اور مرشِد ایک ہی ہیں۔ مرشِد ہی خدا ہے ،فرض روزہ ، نماز سب کی جگہ بس تصورِ مرشد ہی کافی ہے۔'' اب میں وہاں جانا نہیں چاہتا تھا مگر میں مجبورتھاکیونکہ وہ شخص مجھے دھمکیاں دیتا کہ یہاں آنے کا راستہ تو ہے جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے،واپسی کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے موت ۔ میں جب بھی وہاں نہ جانے کااراداہ کرتا تو میری