اجتماعی اعتکاف کرنے کی سعادت بھی پائی، اور وہاں مجھے سرکار ِ مدینہ ، سرورِ قلب و سینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت بھی نصیب ہوئی۔
اس شخص کا کہناتھا کہ ہائے میری بد نصیبی کہ میں اللہ کے ایک ولی سے مرید ہونے کے باوجود طریقت کے اصولوں سے ناواقف ہونے کے باعث ادھر ادھر بھٹکنے کا عادی تھا۔کا ش کہ ''یک دَرْ گیر مُحکَم گِیر'' یعنی ایک دروازہ پکڑ مضبوطی سے پکڑ'' پر کار بند رہتا اورصرف اپنے پیر و مرشد کی محبت اور جلوے دل میں بسائے رکھتاتو آج میں یوں برباد نہ ہوتا، کاش میری عقیدت کا مَحورصرف میرے مرشد ہوتے ، کاش! میں اپنی عقیدت تقسیم نہ کرتا۔
معاملہ کچھ یوں رہا کہ مجھے جب بھی کسی نام نہاد عامل یا پیر کے متعلق اطلاع ملتی کہ وہ قلْب جاری کردیتا ہے یا اسمِ اعظم جانتا ہے تو میں بغیر سوچے سمجھے اس کے پاس پہنچ جاتا، مگر ہر جگہ سوائے ظاہری معاملات کے کچھ نہ ملتا، لیکن کیا کرتا میں اپنی عادت سے مجبور تھا۔ جسں کا خمیازہ آ خر کار مجھے بھگتنا پڑا۔
ایک دن میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جس نے طریقت کے نام پر کچھ باتیں ایسے سحر انگیزانداز میں بتائیں کہ مجھے بہت اچھالگااورمیری بدقسمتی کہ میں نے اس سے دوستی کرلی۔وقت گزرتا رہا، ایک دن اس نے ا پنے ایک استاد سے ملوایاجسے وہ اپنا پیرکہتا تھا۔اس کے استاد نے مجھے پانی پر کچھ دم کرکے پلایا اور اپنے پاس پابندی سے آنے کی تاکید کی ۔پھر میرا دوست مجھے اکثر اپنے ساتھ وہاں لے جاتا۔ اس کے استاد نے مجھے روزانہ پڑھنے