نے سختی سے منع کیا تھاکہ کسی کو مت بتانا ورنہ سخت نقصان کا اندیشہ ہے۔
خیر جب اس عامل سے بات کی گئی اور رقم واپسی کا مطالبہ کیا گیاتو وہ نادم ہونے کے بجائے سخت طیش میں آگیااور دھمکیاں دینے لگا کہ مجھے تنگ مت کرو میں نے یہ پیسے تمھارے لیئے ہی خرچ کئے ہیں۔اگر میری باتیں اور لوگوں سے کروگے تو ایسا عمل کرونگا کہ تمہارے بچے پاگل یا معذور ہوجائیں گے۔
اس طرح کی ڈرانے والی باتیں سن کر تمام گھر والے خوفزدہ ہوگئے اور یہ فیصلہ کیاکہ جو پیسے چلے گئے ، انہیں بھول جائیں اور اسے آئندہ اپنے گھرنہ بلایا جائے ۔مگر وہ بن بلائے آنے اور مزید پیسوں کا مطالبہ کرنے لگا ۔پیسے نہ ملنے پر دھمکیاں دیتا، ہم بڑے پریشان تھے۔ میں نے موقع غنیمت جان کر گھروالوں کا ذہن بنایا اور تمام گھر والوں کو امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا مرید بنوادیا، اورمجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطّاریہ کے بستے سے رابطہ کیا، تعویذاتِ عطّاریہ لئے اور کاٹ کروائی جس سے گھر والوں کی گھبراہٹ میں کمی ہوئی اور غیر متوقع طور پر تعویذاتِ عطّاریہ کی بَرَکت سے اس نام نہادعامل پیر نے خود ہی آنا چھوڑدیا۔ اس طرح امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے مرید ہونے کی بَرَکت سے ہم سب گھر والوں کی اس آفت سے جان چھوٹ گئی۔