Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
223 - 269
نے سختی سے منع کیا تھاکہ کسی کو مت بتانا ورنہ سخت نقصان کا اندیشہ ہے۔

     خیر جب اس عامل سے بات کی گئی اور رقم واپسی کا مطالبہ کیا گیاتو وہ نادم ہونے کے بجائے سخت طیش میں آگیااور دھمکیاں دینے لگا کہ مجھے تنگ مت کرو میں نے یہ پیسے تمھارے لیئے ہی خرچ کئے ہیں۔اگر میری باتیں اور لوگوں سے کروگے تو ایسا عمل کرونگا کہ تمہارے بچے پاگل یا معذور ہوجائیں گے۔

     اس طرح کی ڈرانے والی باتیں سن کر تمام گھر والے خوفزدہ ہوگئے اور یہ فیصلہ کیاکہ جو پیسے چلے گئے ، انہیں بھول جائیں اور اسے آئندہ اپنے گھرنہ بلایا جائے ۔مگر وہ بن بلائے آنے اور مزید پیسوں کا مطالبہ کرنے لگا ۔پیسے نہ ملنے پر دھمکیاں دیتا، ہم بڑے پریشان تھے۔ میں نے موقع غنیمت جان کر گھروالوں کا ذہن بنایا اور تمام گھر والوں کو امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا مرید بنوادیا، اورمجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطّاریہ کے بستے سے رابطہ کیا، تعویذاتِ عطّاریہ لئے اور کاٹ کروائی جس سے گھر والوں کی گھبراہٹ میں کمی ہوئی اور غیر متوقع طور پر تعویذاتِ عطّاریہ کی بَرَکت سے اس نام نہادعامل پیر نے خود ہی آنا چھوڑدیا۔ اس طرح امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے مرید ہونے کی بَرَکت سے ہم سب گھر والوں کی اس آفت سے جان چھوٹ گئی۔
عقید ت کی تقسیم کے نقصانات
 ایک 20سالہ نوجوان نے بتایا کہ کم و بیش 4سال پہلے میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا مرید بن گیا، اوراجتماع میں پابندی سے آنے لگا۔ روزانہ درس دیتااور مدرسۃ المدینہ (بالغان)میں شرکت بھی کرتا، اورپابندی کے ساتھ مَدَنی انعامات کاکارڈ بھی پُر کرتا، رمضان المبارک میں سنتوں بھرا
Flag Counter