مگرآہستہ آہستہ میری غیر موجودگی میں گھر والوں کو دعوتِ اسلامی اور قبلہ شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ سے بدظن کرنے کی کوشش کرناشروع کردی ۔ جس کے نتیجے میں گھر والے میرے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے اور امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعالیہ پر بے جا اعتراضات کرنے لگے۔ میں نے انہیں بہت سمجھایا مگر وہ نام نہاد پیر نما عامل گھر والوں کو اپنے دامِ تَزویر (یعنی مکرو فریب کے جال)میں پھانس چکا تھا۔
گھر والے ایک عرصہ سے چند گھریلو مسائل کی بنا پرسخت پریشان تھے۔ایک دن اس نام نہاد پیر نے گھر والوں کو بتا یا کہ میں نے رات چلہ کھینچا تو مجھے معلوم ہوا کہ تم لوگوں پرکسی نے زبردست کالا علم کرا رکھا ہے ،تم تمام سب کی معیاد رکھی جاچکی ہے، علاج انتہائی دشوار ہے اور تم سب کی جان سخت خطرے میں ہے، مگرآپ لوگ مت گھبرائیں۔ میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھی تمہاری مشکل کے حل کے لئے کوشش کر ونگا۔ اس طرح گھر والوں کو اس نے الٹی سیدھی باتیں بتا کر اپنا گرویدہ کرلیا۔ اب توگھر والے مجھے مَدَنی ماحول سے سختی سے روکنے لگے۔میں بڑا پریشان تھا کہ کیا کروں؟ دن بدن گھر والوں کے دل میں اس نام نہاد عامل کی عقیدت و مَحبت بڑھتی ہی جارہی تھی۔
چندماہ بعداتفاقاً گھروالوں کے سامنے یہ بات کھلی کہ وہ عامل جسے یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مقبول بندہ سمجھ بیٹھے تھے، بڑے بھائی سے مسائل کے حل کے بہانے کم بیش 80,000 روپے لے چکا ہے۔یہ سن کر گھر والوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی کہ ایک توہم ویسے ہی بہت پریشان تھے مزید یہ آفت!انہوں نے بھائی سے پوچھا کہ اس عامل کوپیسے دیتے وقت تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں؟ تو اس نے بتایا کہ عامل