Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
219 - 269
اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ نے ارشادفرمایا، حضور پر نور شہنشاہ دو عالم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حکومت جس طرح زمین پر ہے، اسی طرح آسمان پر بھی ہے۔ حضرت دھوکا شاہ علیہ الرَحمتہ نے پھر(ناواقفیت کی بنا پر) عرْض کیا! حضورِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حکومت زمین پرنظر آرہی ہے، آسمان پر نظر نہیں آتی؟(بُزُرگوں سے اس طرح کے جملے نکلنا یا تو حالت سکر کی بنا پر ہوتا ہے یا ناواقفیت کی بنا پر آپ علیہ الرحمۃ کا اس طرح معلوم کرنا ،ناواقفیت کی بناپرتھا)

اعلٰحضرت علیہ الرَحمتہ نے پھر فرمایا! کسی کو نظر آئے یا نہ آئے لیکن میرے آقا، شہنشاہِ دوجہاں صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حکومت بَحروبَر، خشک و تر، برْگ و ثَمَر، شجرَ وحَجَرَ، شمْس وقَمرَ، زمین و آسمان، ہر شے پر، ہر جگہ جاری تھی، جاری ہے اورجاری رہے گی۔یہ جواب سن کر! حضرت دھوکا شاہ علیہ الرَحمتہ چلے گئے۔

یقینِ اعلٰحضرت علیہ الرَحمتہ حضور مفتیِ اعظم ہندمولانا محمد مصطفٰی رضا خان علیہ رَحمۃ ُ ا لْمَنّان کی عمر شریف صرف 6 سال کی تھی، اور اس وقت آپ رحمۃ اللہ علیہ چھت پر تشریف فرماتھے کہ اچانک چھت پر سے گر پڑے۔

والدہ صاحبہ نے تشویش میں اعلٰحضرت(علیہ الرَحمتہ ) کوآواز دی، اور فرمایا! تم(رحمۃ اللہ علیہ) ابھی ایک مجذوب سے الجھے اور وہ شاید غصے میں چلے گئے، دیکھو جبھی تو یہ مصطفٰی رضا(علیہ الرَحمتہ )چھت پر سے گر پڑے، مجذوبوں سے الجھنا نہیں چاہيے۔ اعليٰحضرت علیہ الرَحمتہ نے فرمایا! مصطفٰی رضا(علیہ الرَحمتہ )چھت پر سے گرے توہیں، لیکن انہیں(اِ نْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ)چوٹ نہیں لگی ہوگی۔