دینا میاں رحمۃ اللہ علیہ آپ کو دیکھ کر بھاگے اور ایک گلی میں چھپ گئے۔ لوگوں نے آپ کو دیکھاتو پہچانا، اور کہا !کیوں بھاگتے ہو میاں؟ آپ رَحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کچی زبان میں فرمایا! بامولوا آروہے۔ (یعنی شَرِیْعَت کے امام آرہے ہیں) لوگوں نے کہا!
مولوی صاحب آرہے ہیں، تو کیا ہوا۔(اب چونکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا تہبند گھٹنوں سے اوپر تھا)اسلئے گھٹنوں پرہاتھ رکھ کر فرمایا، پھرج کھلے بھٹے ہیں؟ (یعنی میرا سَتْر کھلا ہواہے)
سبحان اللہ عَزَّوَجَلَّ اعليٰحضرت قبلہ علیہ الرحمۃکی یہ شان،بارگاہ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں یہ مقبولیت، کہ بڑے بڑے قطب و ابدال رحمھم اللہ، آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اعلیٰ مرتبہ عالیہ کی قدر کرتے تھے۔بلکہ اعلٰيحضرت علیہ الرحمۃ کی بارگاہ ، میں معرفت الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے اَسرارو رُموز سمجھنے کیلئے حاضری دیا کرتے تھے۔ (تجلیات احمد رضا ،مجد د وقت کااحترام ، ص ۴۸)